طاہرالقادری کے دھرنے میں
رک گئی ہے بارات رستے میں

وہ بھی مُکّا دِکھا کے بات کریں
پارٹی جن کی آئے ٹانگےمیں

مارشل لا کی جستجو کے ساتھ
انقلابات بھی ہیں چہونگے میں

اب کہاں وہ پرانا شیخ رشید
شیخیاں رہ گئی ہیں شیخےمیں

کچھ شریفوں میں اِس قدر بھی نہیں
جوشرافت ہے اب شریفےمیں

کتنی ڈیٹوں کا اہتمام رہا
آج عمران خاں کے جلسے میں

ثالثی میں پڑےسراج الحق
یاپڑے کوئلےکے دھندے میں

فضل الرّحمٰن مضطرب ہے بہت
بوٹیاں ڈھونڈتا ہے ڈونہگے میں

چپ چپیتاہے یوں تو زرداری
دودھ کی آرزو ہے بلے میں

ہو چکے راکھ سرحدی گاندھئ
بل ابھی تک وہی ہے رسّے میں

زورِ الطاف بھائی ہیل ای اوئے
بولتے ہیں نشے کے جھونکے میں

آمریت دکھائی دیتی ہے
آج جمہوریت کےحلئے میں

کھیل ٹھہرا یہ لیڈروں کا مگر
گردنِ قوم تو ہے ٹوکے میں

Advertisements