دائروں میں چلا نہیں جاتا
گھر کو یہ راستہ نہیں جاتا

موت بھرتی ہے چٹکیاں اکثر
زندگی بھر جیا نہیں جاتا

دشمنوں سے تو بچ ہی جاتا ہوں
دوستوں سے بچا نہیں جاتا

ہمسفر راستے میں رہ جائیں
ایسا ڈگ تو بھرا نہیں جاتا

خود سے اغماض کس طرح برتوں
آئینے سے چھُپا نہیں جاتا

یوں تو سچائیوں کا قائل ہوں
زہر لیکن پیا نہیں جاتا

جب نشانے پہ آئے دل والا
تیر کوئی خطا نہیں جاتا

Advertisements