میں اُس وقت فون پراپنے دوست "نِک” سے باتیں کر رہی تھی۔ وہ اپنے دفتر میں تھا اور میں گھر پر تھی۔۔۔ ہم اُسی موضوع پر گفتگو کر رہے تھے جس پر لوگ عموماً گفتگو کیا کرتے ہیں  ۔۔۔۔ یعنی  کسی بھی موضوع پر  نہیں۔

وہ مجھے اپنی "اداکاری” کی کلاس کے بارے میں بتا رہا تھا۔ ہم دونوں نے پروگرام بنایا تھا کہ ہم کوئی مزاحیہ فلم دیکھنے جائیں گے۔ اُس سے فارغ ہو کر ٹی وی پر مشکوک دانشواروں سےحالاتِ حاضرہ  و غیر حاضرہ  پر ہوائیاں اڑاتے سنیں گے اور پھر مزید سنجیدہ پروگرام یعنی مشہورِ زمانہ کارٹون شو  "سمپسن” دیکھیں گے وغیرہ وغیرہ۔
شائد اِسی لئے مرد حضرات کو رقص سے دلچسپی ہوتی ہے کیونکہ وہ اس طور پرُ معنی باتوں سے اجتناب کر کے ایک لمبا وقفہ اُن خواتین کے ساتھ بحفاظت گزار سکتا ہے  جو اُن سے تعلقات کےکسی پُر معنی حل پر گفت و شنیدکرنا چاہتی ہیں۔
یہی وجہ تھی کہ مجھے شدید دھچکا لگا جب باتوں کے دوران نِک نے میری بات کاٹی اور کہا ” آئی لویُو” اور  پھر فون کا سلسلہ منقطع کر دیا۔
میں سُن ہو کر رہ گئی ۔۔۔۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم بہت پرانے دوست تھے   ۔۔۔ اتنی کہ میں اُس کی شادی  کے موقع پرپیش پیش رہی تھی ۔۔۔ لیکن مجھے اس امر کا قطعاً احساس نہیں تھا کہ وہ میرے متعلق اِس انداز سے سوچتا ہے۔۔۔ اُس نے تو اظہار محبت کے ضمن میں اُن تمام ضمنی اقدامات کو نظر انداز کر دیا تھا  جو اظہارِ محبت کے خمیازے سے  پہلے اُٹھائےجاتے ہیں۔ مثلاً    یہ کہنا کہ۔۔۔۔۔ مجھے تمہاری یہ بات پسند ہے یا یہ کہ مجھے تمہارے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا ہے یا پھر یہ کہ تم نے مجھے مکمل کر دیا ہے وغیرہ وغیرہ لیکن یہ ایک دم سے شبخون مارنا کہ ” مجھے تم سے محبت ہے” ناقابلِ فہم بات تھی۔
اُس کے یہ الفاظ   اسقدر سرسری انداز میں کہےتھے جیسے کہہ رہا ہو ۔۔۔۔ ہیلو’ برگر کھانا ہے ؟
واضح طور پر لگ رہا تھا کہ نِک مجھ سے مذاق کر رہا ہے ۔۔۔۔ ابھی وہ مجھے فون کرے گا اور ایک پُر زور قہقہہ لگا کر کہے کہ  ۔۔۔۔ تم کیا سمجھیں تھیں ۔۔۔۔۔۔ میں تو مذاق کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔
میں کافی دیر انتظار کرتی رہی ۔
(ریکارڈ کے لئے بتائے دیتی ہوں کہ اب مجھے پتہ لگا کہ دل کے معاملات میں سسپنس کتنی بُری شے ہے’ خصوصاً صنفِ نازک اس سے کس قدر متاثر ہو سکتی ہیں)۔
ناچار مجھے خود ہی اُسے فون کرنا پڑا ۔۔۔۔مجھے محسوس ہوا کہ وہ اپنی گزشتہ گفتگو  کے سلسلے میں میرا ردِ عمل دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔ یہی کہ آیا کہ میں نے اُس کی بات کا نوٹس لیا ہے یا نہیں ۔۔۔۔ جیسے اگر میں کہہ دوں کہ نہیں کیا کہا تھا تم نے  تو وہ کہے گا  ۔۔۔۔ نہیں کچھ نہیں ‘ میں یونہی پوچھ رہا تھا  ۔۔۔ اور یوں یہ بات آئی گئی ہو جاتی ۔۔۔۔ جیسے کبھی وقوع پذیر ہی نہ ہوئی ہو۔
لیکن میں کسی بھی صورت اتنے حساس معاملے پر  اُسے یا خود کو لٹکائے رکھنے کی قائل نہیں تھی ۔۔۔۔ایسا وقوعہ قسمت کے دروازے پر شاذو نادر ہی دستک دیتا ہے اور اگر اس معاملے سے یونہی اغماذ برتا جاتا تو ہمیشہ کے لئےدل میں ایک پھانس بن کر رہ جاتا۔
میرے استفثار پر اُس نے فوری وضاحت پیش کی ۔۔۔۔ اُس نے بتایا کہ وہ اُس وقت اپنے آفس میں تھا کہ اچانک اُس کا باس کمرے میں داخل ہو گیا تھا ۔۔۔ اُس کے اس طرح اچانک آ جانے سے نِک کنفیوز ہو گیا ۔۔۔ چونکہ اُس  دفتر میں نیا نیا بھرتی ہوا تھا اس لئے نہیں چاہتا تھا کہ اُس کا باس یہ تاثر لے کہ وہ اپنے کسی دوست سے فون پر اتنی دیر تک کال کر رہا ہے۔۔۔اگرچہ بات کچھ ایسی ہی تھی۔
چنانچہ نِک نے اُس کے سامنے یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ وہ اپنی بیوی سے بات کر رہا ہے  ۔۔۔۔ ظاہر ہے کوئی اپنی بیوی سے تو زیادہ بات نہیں کر سکتا ۔۔۔۔مجھ سے اظہارِ محبت کر ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔ میرے لئے وہ اظہارِ محبت ہوتا لیکن اُس کی بیوی کے لئے معمول کا ایک سماجی فقرہ۔
اُس دن میں نےیہ ایک سبق سیکھا۔
اگر آپ فون پر بات کر رہی ہوں اور آپ کا بہترین دوست آپ کو کہے کہ ” مجھے تم سے محبت ہے” تو ذیادہ چونکنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ ممکن ہے کہ اُس کا باس اچانک اُس کے دفتر میں ٹپک پڑا ہو ۔۔۔۔۔ ایسی صورتِ حال میں بہتر یہی ہے کہ آپ نہایت سکون کے ساتھ ریسیور کو کریڈل پر رکھیں اور سوچیں کہ دوپہر کے کھانے میں کیا پکانا چاہئیے۔
یہ بھی عین ممکن ہے کہ کوئی آپ سے سیدھے سبھاؤ کہہ دے کہ "مجھے تم سے محبت ہے” لیکن یہ بھی اُس صورت میں ہو گا جب آپ شگاگو سے بھاگم بھاگ گھر کو واپس لوٹ رہی ہوں اور آپ میں سے ایک قریب المرگ ہو۔
باقی تمام دیگر حالات میں ایسا صرف ویکٹورین  دورکی فلموں میں  ہی ممکن ہے ۔
"مجھے تم سے محبت ہے” ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔

(جو ڈوناٹیل کی تحریر "لو از کنفیوزنگ” کا ترجمہ)

Advertisements