عالمی ادبی فورم کے زیرِ اتمام منعقد ہونے والے گزشتہ شب آن لائن فی البدیہہ مشاعرے میں میری غزل

تم نہ ہو گے تو عید کیا ہو گی
آؤ گے تو مزید کیا ہو گی

بھاؤ سُن کر ہی ہو گیا اُلٹا
قیمتِ ناخرید کیا ہوگی

اُن کی زن سے ہی پوچھنا ہو گا
خواہشِ زن مرید کیا ہو گی

تم کو موضوع کی ہے خبر نہ مجھے
بحث ہم میں شدید کیا ہو گی

کسی غرفے میں چاند کو دیکھیں
آسمانوں میں دید کیا ہو گی

اُن کا ابا بھی ہے اگر موجود
ہم کو خوش آمدید کیا ہو گی

ہم نے مضمونِ عشق پڑھنا ہے
اس کی کوئی کلید کیا ہو گی

آپ نے بھی دکھا دیا ٹھینگا
اور مٹی پلید کیا ہو گی

عشق تو تا بہ عقد کر بھی چکے
کوئی غلطی مزید کیا ہو گی

نام ہی رکھ دیا گیا ہے نوید
اور ہم میں نوید کیا ہو گی

Advertisements