ٍیہ عشق وشق پیٹ بھروں کے ہیں مشغلے
اِس باب میں تو چوہے لنڈورے ہی ہیں بھلے

ہر رُوٹ پر رواں ہے پجیرو حضورکی
ہم کنگلوں کی دال کہیں پر بھی نہ گلے

اہلِ وطن کے بارہ بجا دیں گے راہبر
اک بار طے تو کر لیں الیکشن کے مرحلے

جو بھونکتا ہے کاٹ بھی سکتا ہے ایک دن
خوش فہمیوں سے بڑھتے نہیں اپنے حوصلے

سنتی نہیں ہے پود ہماری تو کیا گلہ
ہم بھی رہے ہیں اپنے زمانے میں منچلے

بجلی کی ہم سے آنکھ مچولی نہیں گئی
بدلے نہیں ہیں واپڈا والوں کے مشغلے

اب نیکیوں کی قدریں زمانے سے اُٹھ گئیں
اِس دور میں بھلے ہیں کہاں جزو دہی بھلے

اب چل رہی ہیں قومی سیاست میں باریاں
باہم مشاورت ہے کہ تم آؤ ہم چلے

جمہوریت سے فیض اُٹھایا نہ جا سکا
دلدل ہے اور اہلِ وطن ہیں گلے گلے

لیڈر بحقِ قوم رہے بے محاورہ
جو پھُولتے رہے ہیں کبھی بھی نہیں پھلے

کرتا ہے کیوں ریاض پڑوسی مرا ظفر
لڑتے ہیں اُس کو کیسے چمونے یہ شب ڈھلے

Advertisements