(ذیل کے اشعار کا ہر دوسرا مصرع میر درد کی غزلیات سے اغوا کیا گیا ہے)

میں اس طرف ہوں ۔۔۔۔۔۔  نیچے؛ یہاں دیکھ لے ذرا
"پھرتا ہے کس تلاش میں یہ، آسماں ہنوز”

منسٹر ہوں فقط جمہوریت کے واسطے ورنہ
"نہ مطلب ہے گدائی سے، نہ یہ خواہش کہ شاہی ہو”

اب مرے ہمسائے میں رونق جما
"بس ہجوم یاس! جی گھبرا گیا”

چاپلوسی اگر نہیں سیکھی
"بے ہنر! تو نے کچھ ہنر نہ کیا”

فکر نہیں کسی کو بھی آج ہماری توند کی
"دیکھئے جس کو یاں، اُسے اور ہی کچھ دماغ ہے”

سلمٰی ہے پاس میرے ہما ہے نہ صائمہ
"اے عمر رفتہ چھوڑ گئی تو کہاں مجھے”

سپلائی والا پانی ذرا آنے دو ظفر
"دامن نچوڑ دیں – تو فرشتے وضو کریں”

نہیں کہتا کوے کو عالم سیاہ
"فقط ایک دل ہے کہ آگاہ ہے”

پُلس کو کیا خبر وقوعے کی
"نہ ہوا ہو گا، یا ہوا ہو گا”

کچھ حسیناؤں پہ مر جانے کے بعد
"ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے”

منعک ہے جو بیماربصارت کی وجہ سے
"اس چشم سے کہہ دینا کہ بیمار ہوں تیرا”

Advertisements