بچپن کی محبت کو دِل سے نہ جُدا کرنا
پچپن کے افیئر میں تبدیل ذرا کرنا

نہ دانت بچے منہ میں نہ آنت بدن میں ہے
میٹھی سی لگن پھر بھی اس منچلے من میں ہے
اِس جذبِ وفا کو مت ٹھینگے پہ دھرا کرنا

مانا کہ اب آنکھوں سے کم کم نظر آتا ہے
پیغام نگاہوں کا ہر دم نظر آتا ہے
درشن سے درخشندہ جیون کو سدا کرنا

تم پوتوں کو ٹہلانے جب پارک میں آؤ گی
ہم کو بھی نواسوں میں واں کھیلتا پاؤ گی
ہر شام اِسی حیلے فدوی سے ملا کرنا

چھتیس برس پہلے تھے جو وہی تیور ہیں
بے درد زمانہ ہے پھر پیار کے رستے میں
اب کے نہ کرے گڑ بڑ کچھ ایسی دوا کرنا

سانڈوں سے ترے دونوں بیٹے ہیں تو پھر کیا ہے
اور بھانڈ مرے ہوتے سوتے ہیں تو پھر کیا ہے
ہر اِک سے ٹکر جانا ہر اک سے لڑا کرنا

آ عہد کریں کہ ہر زنجیر کو توڑیں گے
اب ہاتھ جو تھامیں گے تاعمر نہ چھوڑیں گے
اچھا نہیں جیون کا ہر میچ ڈرا کرنا

Advertisements