دلِ بیتاب تھا آنکھوں میں جسے روکا تھا
ایک سیلاب تھا آنکھوں میں جسے روکا تھا

تیری یادوں کی کوئی لہر اُٹھی تھی دِل میں
دردِ نایاب تھا آنکھوں میں جسے روکا تھا

تیرا غم تھا میرے جیون کو نگل سکتا تھا
گویا گرداب تھا آنکھوں میں جسے روکا تھا

راز میرا تھا زمانے پہ عیاں کیوں ہوتا
عکس بر آب تھا آنکھوں میں جسے روکا تھا

جل بجھی تھی کوئی گزری ہوئی ساعت مجھ میں
یا نیا خواب تھا آنکھوں میں جسے روکا تھا

میرے آنسو میری پلکوں سے ڈھلک سکتے تھے
اپنا اسباب تھا آنکھوں میں جسے روکا تھا

موجہء خوں میں کئی رنگ گھُلے رہتے تھے
غمِ احباب تھا آنکھوں میں جسے روکا تھا

Advertisements