پٹیوں میں نہ گُم ہو کر بستر پہ پڑا ہوتا
نظروں سے گرا ہوتا چھت سے نہ گِرا ہوتا

کُٹ کھانا رقیبوں سے تقدیر مری ہی کیوں؟
جو ہاتھ جگر پر تھا وہ "دستِ قضا” ہوتا

تیری طرح ہم کو بھی آتی ہے ہر اک گالی
"کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سُنا ہوتا”

لیڈر کی سمجھ جیسا ہوتا جو گدھا تو پھر
ووٹر نہ بنا ہوتا گاڑی میں جُتا ہوتا

ہم تم کو تو چاہتے ہیں پر ساتھ یہ چاہتے ہیں
آتے تمہیں ملنے تو کُتا نہ کُھلا ہوتا

لیلٰی نے اگر سینڈل پہنے تھے تو کیوں جھجھکی
مجنوں کو جما دیتی اوروں کا بھلا ہوتا

احساس کی موٹر وے ویران کیوں اِتنی ہے
گاڑی تھی اگر عنقا پیدل ہی چلا ہوتا

ایگزام جو دینا تھا اِس شان سے جانا تھا
اِک ہاتھ میں خامہ ا ور دوجے میں چھُرا ہوتا

ہر کوئی ظفر مجھ کو گچی سے پکڑتا کیوں
بنتا نہ نِرا شاعر کچھ کچا گھڑا ہوتا

Advertisements