پلّو سے وہ وفا کے تقاضے ہی باندھتے
ہم کو بُلا لیا تھا تو کتّے ہی باندھتے

جب باکسنگ کے موڈ میں آتا مرا عدُو
پیچھے سے میرے ہاتھ خود اپنے ہی باندھتے

جن کی محبتوں پہ ہمیشہ سے ہے یقیں
ہوتا میں سامنے تو نشانے ہی باندھتے

"یارانِ تیز گام نے منزل کو جا لیا”
ہم رہ گئے ہیں بُوٹ کے تسمے ہی باندھتے

میڈم غزل کے شوہر ہیں منصوبہ ساز کیوں؟
اس کو غزل ہی جانتے مصرعے ہی باندھتے

روزوں میں جیسے حضرتِ ابلیس قید ہیں
اے کاش ہم بھی نفس کو ویسے ہی باندھتے

اب بھی ہے پولیٹیشنز کا طرزِ عمل وہی
اب کے مقننہ میں تو گھوڑے  ہی باندھتے

تشریح کرنے والے ہی اُلٹے ہیں دوستو
مضمون باندھنے کو تو اچھے ہی باندھتے

مجھ کو بھی بہرِ دوڑ نہیں چاہئیں ظفر
میرے لئے بھی آم وہ لنگڑے ہی باندھتے

Advertisements