حکومت کا تختہ جلد الٹے گا، میرا جہاز ہائی جیک کیاگیا، انتقام لوں گا، طاہرالقادری

لاہور(نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ نواز شریف نے طیارے کو ہائی جیک کیا، ان کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے ” اس سلسلے میں نواز شریف کو میرا شکر گزار ہونا چاہئیے کہ میں نے بات محض انتقام لینے تک محدود رکھی ہے حالانکہ پرویز مشرف نے تو اس جرم میں نواز شریف حکومت کا تختہ ہی دھرن کر ڈالا تھا۔” انھوں نے کہا کہ شہدا کے خون کا انتقام لوں گا، ” ظاہر ہے کہ جب میں نے اُن کی شہادت کا اہتمام کر دیا ہے تو اب اُس کا بدلہ لینے کا حق بھی میرا ہی بنتا ہے” اُنہوں نے کہا کہ میں غریبوں کی جنگ لڑنے آیا ہوں، ” اور غریبوں کے لئے میرے خلوص کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ میں نے اس پروجیکٹ پر اربوں روپے لگا دئے ہیں”  اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا جلد تختہ الٹے گا، حکمراں مجھے گولیوں سے چھلنی کرسکتے ہیں انقلاب سے نہیں روک سکتے، ” کیونکہ میرا کام ہی انقلاب لانا ہے اس ضمن میں لوگوں کو میرا گزشتہ دورہ یاد ہی ہو گا”  اُنہوں نے کہا کہ کرپشن کےخاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ ” ہاں اس ضمن میں مجھ سے باز پرس مت کی جائے کہ میرے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے” طاہر القادری جناح ہسپتال میں زخمی کارکنوں کی عیادت اورمنہاج القران مرکز پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انھوں کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون نے ہٹلر اور مسولینی کی یاد تازہ کر دی ہے۔ نواز شریف ہٹلر، شہباز شریف مسولینی اور قاتل اعلیٰ پنجاب ہیں "اور اس دریافت کا سہرہ بھی میرے سر جاتا ہے کیونکہ بیک وقت پاکستان کو اٹلی اور جرمنی کی خصوصیات کی دریافت کرنا میرے ریسرچ کا ہی نتیجہ ہو سکتا ہے”۔ ذرائع کے مطابق طاہر القادری زخمی کار کنوں کی عیادت کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے اور زخمی کارکنوں کے ہاتھ چومتے رہے، انھوں نے کئی کارکنوں پر دم بھی کیا "اور یہ فن "دم مارو دم” انہوں نے اپنے دورہ یورپ میں سیکھا تھا جس کا شاندار مظاہرہ "یو ٹیوب” پر پہلے ہی سے موجود ہے”۔دریں اثناء جناح ہسپتال میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہاکہ زخمیوں کے خون کا عدل کے ذریعے حساب دینا ہوگا ” اور تاوان میرے اکاؤنٹ میں براہ راست ڈیپازٹ کروانا ہو گا”۔ سانحہ ماڈل ٹائون کے شہداء کے خون کاانتقام لوں گا۔ اس وقت تک یہاں سے نہیں جائوں گا‘ جب تک غریبوں کا مقدر نہ بدل جائے۔ "یعنی اقتدار کی مجھ تک منتقلی نہ ہو جائے”  اُنہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں نے خون کا نذرانہ دیا ہے ” اور پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے جب کہ پہلے وہ صرف یہ نذرانہ نوٹوں کی صورت ہی دیا کرتے تھے تاہم ان کا یہ نذرانہ بھی خاصا منافع بخش ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور ظلم کے پہاڑ ڈھائے گئے۔ پاکستان کی 65 سال کی تاریخ میں اس ظلم کی مثال نہیں ملتی "بیشک میرے متعلق ہر شے مثالی ثابت ہو گی۔”  انہوں نے کہا کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق پاکستان آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے لاہور میں آنا تھا۔ حکومت بتائے کہ انہیں کس چیز کا خوف تھا "اگرچہ مجھے علم ہے کہ پرویز مشرف کے مارشل کے تجربے کے بعد اب شریفین سانپ تو سانپ رسی سے بھی دہل جاتے ہیں حالانکہ میں تو رسی کی ایک ڈوری کے برابر بھی نہیں ہوں۔”

Advertisements