عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشیں عوام ناکام بنادیں گے،  نواز شریف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور(ایجنسیاں)وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش عوام ناکام بنادیں گے۔ "اور اس کے لئے "عوام” کو ڈنڈوں اور شیلڈز سمیت احتجاجیوں کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ہے کہ وہ ماڈل ٹاؤن وقوعہ کے تاوان کے لئے خود کو پیش کر دیں۔ اس سلسلے میں خاصی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ درجنوں "عوام” ہسپتال پہنچ چکے ہیں۔” انہوں نے کہا ہے کہ دھرنے اور احتجاج کرنے والے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں ” اور اس کی مبینہ عوام دشمنی کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو گا کہ وہ ملک کے دو شریفوں سے استعفٰی کے لئے کہہ رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف آپریشن کو پوری قوم کا تعاون حاصل ہے، ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو گا اور حقیقی امن عوام کا مقدر بنے گا ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں، ذمہ دار کسی بھی صورت سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔” اس سلسلے میں بہت سے قربانی کے بکرے تیار کئے جا چکے ہیں جو حکمرانوں کا صدقہ اُتارنے کا مقدس فریضہ سر انجام دیں گے۔”مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق اتوار کو وزیراعظم نوازشریف سے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے ملاقات کی ۔ ملاقات کے دوران وزیر اعلی پنجاب نے وزیر اعظم کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ہونیوالی اب تک کی پیش رفت اور تحقیقات کے بارے میں بریفنگ دی ” اور جوش خطابت کا مظاہرہ کرتے ہوئےمزید حماقتوں کی منصوبہ بندی سے آگاہ کیا” جس پر وزیراعظم نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ذمہ داروں کو ہر صورت سامنے لا کر ان کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ” اور اگر انصاف اور قانون واقعی انصاف پر اُتر آئیں تو پھر اپنے لازوال صلاحیتیوں کو استعمال کر کے ہمیشہ کی طرح قانون کی موم سے بنی ہوئی ناک کا موڑنے کا مظاہرہ کیا جائے اس کے لئے "چھانگا مانگا” کی مثالوں کو سامنے رکھا جائے”جبکہ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جاری آپریشن میں ملک کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے اور سب کو ملکر پاک افواج کا ساتھ دینا ہو گا ” جیسا کہ ہم نے بہ امر مجبوری ایسا کیا ہے ورنہ طالبان سے "لُکن مٹی” کا تو سواد ہی جدا تھا۔”دونوں رہنمائوں کے درمیان ملاقات کے موقع پر وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ کی پنجاب حکومت کی نیک نامی پر دھبہ لگانے والوں کو جلد از جلد بے نقاب کیا جائے، بعض عناصر کو موجودہ حکومت کی طرف سے شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل اور توانائی بحران کے خاتمہ کے لئے اٹھائے گئے انقلابی اقدامات ہضم نہیں ہو رہے اور عوام اس سے آگاہ ہیں ” کہ اس کو ہضم کرنے کے لئے کس قسم کی پھکی استعمال کی جاتی ہے اور یہ کہ یہ پھُکی "ڈاکٹر” سے نہیں صرف صرف "حکیم” سے دستیاب ہے۔” وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور آئی جی پنجاب نے ڈاکٹر طاہر القادری کی وطن واپسی کے بعد بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور آمد کے موقع پر حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، اس سلسلہ میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جائیں گے "اور اس سلسلے میں ہم نے "عوام” کو گلو بٹ کی خدمات بھی تقویض کر رکھی تھیں جن سے وہ آئندہ بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں”۔

Advertisements