ضرورت پڑی تو شہید ہونے کیلئے بھی تیار ہوں، ڈاکٹر طاہر القادری
———————————————————-

لندن (رپورٹ؍مرتضیٰ علی شاہ) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ حکومت میری پاکستان آمد سے خوف زدہ ہے،ا ور پورے پنجاب میں ہمارے کارکنوں کیخلاف کریک ڈائون شروع ہوگیا ہے ” اور جو کارکن اس کریک ڈاؤن سے بچ گئے ہیں وہ کریک ہو کر پولیس کے تھوبڑوں کو کریک کرنے میں مشغول ہو گئے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ حقیقی جمہوریت کو مضبوط بنانے کیلئے پاکستان جائینگے، جو ان کے خیال میں اپنا وجود نہیں رکھتی "اور یہ ایک محیر العقول کام ہوگا کہ جو چیز اپنا وجود ہی نہیں رکھتی وہ اُس جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لئے اتنی دور سے تشریف لائے ہیں”۔ اتوار کی دوپہر کو دبئی کے راستے پاکستان روانگی سے پہلے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ پولیس نے ہماری ہزاروں کارکنوں کو غیر قانونی طورپر گرفتار کرلیا ہے۔ ہزاروں لوگ میرے استقبال کے لیے اسلام آباد ائر پورٹ آنا چاہتے ہیں اور بہتر پاکستان کے یے میرے انقلابی ایجنڈے کو خوش آمدید کہنا چاہتے ہیں ” لیکن یہ میرے کارکنوں کا کمال ہے کہ وہ گرفتار ہو کر بھی اسلام آباد ائر پورٹ پر پہنچ گئے ہیں اور اب میرے استقبال کے لئے پولیس کے جوانوں کی سروں کی سُرخیوں کی سلامی پیش کرتے پھر رہے ہیں۔” حکومت سرکاری مشینری استعمال کرکے میرے حامیوں کے حقوق غصب کررہی ہے، حالاں کہ میرے حامی صرف آزادی اظہار کا جمہوری حق استعمال کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں اپنا جمہوری حق استعمال کرنے کی سزا دی جارہی ہے "اسی آزادئی رائے کے جمہوری حق کے سلسلے میں نہ صرف وہ پولیس والوں کے ساتھ "آنکھ مچولی” کھیل رہے ہیں بلکہ کراڑ تھانے میں جا کر تو انہوں نے پولیس کے اُن جوانوں کا بھی محاسبہ بھی کیا ہے جو اس میچ کے لئے باہر تشریف لانے میں تساہل برت رہے تھے” ہتھیرو ائر پورٹ پر ’’دی نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا اگر ضرورت پڑی تو میں شہید ہونے کے لیے بھی تیار ہوں،” لیکن خدا نہ کرے کہ ایسا ہو ۔ شہید ہونے کے لئے کیا کارکنوں کی فوج کم ہے؟ یوں بھی لیڈر حضرات شہید ہونے کے بجائے "غازی” رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ میں دہشت گردی سے نبرآزما پاک فوج کو سپورٹ کرنے کیلئے پاکستان جانا چاہتا ہوں، ” اور یہ کام کینیڈا میں بیٹھ کر ممکن نہیں تھا اس کے باوجود کہ میں کینیڈا بیٹھ کر گھنٹوں پاکستان میں کارکنوں سے خطاب کرتا رہتا ہوں لیکن آخر پروٹوکول بھی تو کوئی شے ہے” انہوں نے کہا کہ میں اقتدار کا بھوکا نہیں ہوں، مجھے وزارتیں یا پیسہ نہیں چاہیے، مگر حکومت آمریت کا مظاہرہ کررہی ہے ” اس سے بڑھ کر اور آمریت اور کیا ہو گی کپ جو اقتدار کا بھوکا نہ ہو اُسے اقتدار پیش کرنے میں پس و پیش کا مظاہرہ کیا جائے۔ بھلا میں مذاق میں بھی "شریفین کی اقتدار کی دعوت قبول کر سکتا ہوں بھلا ۔۔۔۔ میرا اُن سے مذاق کا رشتہ تو ہے ہیں نہیں” انہوں نے کہا کہ ہمارے مراکز بند کردیے گئے ہیں اور ہمارے رضاکار اغوا، گرفتاری اور تشدد کا شکار ہیں "حالانکہ ہمارے تمام گُلوبٹ یہ کام خود کرنا چاہتے تھے۔” ڈاکٹر طاہرالقادری نے پاک فوج سے صورتحال کا نوٹس لینے اور اس معاملے میں دخل انداز ہونے کی اپیل کی ہے ” اور اس سلسلے میں ماضی کی اصغر خان کی مثال کو سامنے رکھنے کی نصیحت بھی کی ہے” ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں، لیکن مجھے بھی اپنی پروا نہیں، ” لیکن میری کسرِ نفسی کو سمجھا جائے اور میری سیکیورٹی کے لئے زمین آسمان ایک کر دیا جائے” انہوں نے کہا کہ میرے کارکنوں پر حملے اور تشدد کو روکا جائے، ہمیں امن پسند ہونے کی سزا دی جارہی ہے ” اور اب تو ہمارے کارکنوں نے راولپنڈی میں اپنے امن پسند ہونے کا مکمل ثبوت بھی فراہم کر دیا ہے”۔ ڈاکٹر قادری نے ’دی نیوز‘ کو اپنا پاکستان پاسپورٹ اور نائیکوپ کاشناختی کارڈ دکھاتے ہوئے کہا کہ میں پیدائشی پاکستانی ہوں، مجھے اپنے ملک میں سیاست کرنے کا حق حاصل ہے، حکمراں میراراستہ نہیں روک سکتے ” جیسا کہ وہ اوباما کا راستہ نہیں روک سکتے جو پاکستان میں پاکستانی سیاست دانوں سے زیادہ پاکستانی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں”۔

Advertisements