اُڑنے کو ہے ایک جہاز کنیڈا سے
کنٹینر والی سرکار کی آمد ہے

بائیس جون کو حشر سے ڈیٹنگ ٹھہری ہے
چیختے چلاتے اخبار کی آمد ہے

دامانِ صد چاک کے دیدے پھیلے ہیں
اہلِ جبہ و دستار کی آمد ہے

امپوٹڈ لیڈر کی بڑھکیں جاری ہیں
مولا جٹ جیسے فنکار کی آمد ہے

نورے سے ہیں نورا کشتی کی باتیں
ہتھ جوڑی کو جوڑی دار کی آمد ہے

ایرے غیرے نتھو خیرے دور دفع
قوم کے نمبر ون غمخوار کی آمد ہے

شور مچاتے زور دکھاتےہیں چیلے
اِن کے گُروِ ذی وقّار کی آمد ہے

تبدیلی کا من و سلویٰ اُترے گا
یہ مت سمجھو کہ بیکار کی آمد ہے

آج تو لگتا ہے یہ اپنا پاک وطن
بھوت نگر ہے اور اشرار کی آمد ہے

اس کی باتوں اور گھاتوں سے لگتا ہے
اینی میٹڈ سے کردار کی آمد ہے

دین کو موم کی ناک بنا کر رکھا ہے
مفتیء مشکوک افکار کی آمد ہے

دنیا داری کے پیچھے بولائے ہوئے
وکھری ٹائپ کے دیں دار کی آمد ہے

جس دھرتی میں رہنا بھی منظور نہیں
اُس میں شیخِ طرحدار کی آمد ہے

چاکنگ سے ہیں شہر کی دیواریں کالی
اِیک طہارت کےشہکار کی آمد ہے

دولت اپنا آپ دکھاتی پھرتی ہے
ملک میں درہم و دینار کی آمد ہے

رونق میلہ خوب سجے گا دھرنوں کا
یعنی گرمئی بازار کی آمد ہے

تقریں بھی ہوں گی نعرے بھی ہوں گے
ملک میں پھر سے ہاہاکارکی آمد ہے

لفاظی یوں اُن کے لبوں سے جھڑتی ہے
جیسے شاعر پر اشعار کی آمد ہے

اللہ اللہ اِن کی گرج اور اِن کی چمک
ٹھنڈے دیس سے اِک انگار کی آمد ہے

مُشتِ خاک سے بڑھ کر تو اوقات نہیں
لیکن لگتا ہے بمبار کی آمد ہے

اہلِ وطن کے” بارہ” بجنے والے ہیں
ارضِ وطن میں اک "سردار” کی آمد ہے

لاشوں کے زینوں پر چڑھنا سیکھ لیا
کُرسی کے ازلی بیمار کی آمد ہے

پہلے بھی وہ جیسے آئے ویسے گئے
تو کیا ویسی ہی اِس بار کی آمد ہے

Advertisements