یہ پوچھنے کو اللہ وسایا نہ جائے گا
کیوں وعدہ کرکےیار سے آیا نہ جائے گا

جھوٹے کو جھوٹا کون کہے اُس کے سامنے
لوہے کے اِن چنوں کو چبایا نہ جائے گا

عُریانیت پسند ہے تہذیبِ عصرِ نو
اب اِن کا وارڈ روب بنایا نہ جائے گا

جس جانور کو چاہے سو مادام پال لے
ہم شوہروں کی طرح سدھایا نہ جائے گا

پلتے ہیں ہر طرح کے جراثیم دہرمیں
سچائیوں کو لیکن وُبایا نہ جائے گا

عشاق تو بلائیں گے گا گا کے رات بھر
جائے گا کوئی سُن کے صدا یا نہ جائے گا

اِس دل میں حُسن والے تو آئیں گے جائیں گے
لیکن کوئی بھی دے کے کرایہ نہ جائے گا

میک اپ بغیر دیکھ کے ڈر جائے نہ کہیں
گوری کو اُس کا روپ دکھایا نہ جائے گا

شاعر ہو ساس ہو یا بہُو کی ہو گفتگو
اِن کے سخن سے رمز و کنایہ نہ جائے گا

یوں گردشِ حیات نے بارہ بجا دئے
لوگوں کو گدگداکے ہنسایا نہ جائے گا

Advertisements