(حضرتِ جوش ملیح آبادی کے "چنا جور گرم” کو مزید سپلائی)

صورتِ حال ہوئی اور چنا چور گرم
چور کو پڑ گئے جب مور چنا چور گرم

ہوا دشوار مفر قوم کے بھڑ بھونجوں سے
بیچ کھاتے ہیں بصد شور چنا چور گرم

وہی لیڈر وہی تقریر وہی نعرے ہیں
آج پنڈی بھی ہے لاہور چنا چور گرم

بینک والے ہمیں گچی سے پکڑ لیتے ہیں
بخشوا لیتے ہیں راٹھور چنا چور گرم

نوچا جاتا رہا یونہی تو اُجڑ جائے گا
بے خبر سسی کا بھنبھور چنا چور گرم

جب کبھی پیاس لگے شربتِ دیدار چلے
جب بھی ہوتے ہیں ذرا بور چنا چور گرم

اُن کی مٹھی ہے اگر گرم تو پھر ٹھینگے سے
کوئی ہوتا رہے اگنور چنا چور گرم

جھولیاں بھرتے رہے دہر میں اہلِ ہمت
دیکھتے رہ گئے کمزور چنا چور گرم

اُن کی توندیں نہ ہوئیں عمرو کی زنبیل ہوئی
جن سے چھوٹا نہ لبِ گور چنا چور گرم

لینے والے ہوں تو آرام سے مل جاتے ہیں
سرِ بازار ‘ بہر طور چنا چور گرم

Advertisements