حسرتِ دید سرِ دیدہء مضطر ٹھہری
موسمِ گُل کی سواری کہاں جا کر ٹھہری

عمرِ رفتہ کہ سفینہء شکستہ ہے کوئی
اور طوفان کہ ہر موج سمندر ٹھہری

ہم مسافر کی طرح آتے گئے جاتے گئے
زندگی جیسے کرائے کا کوئی گھر ٹھہری

کس کو پروانہء تعمیر ملے گا آخر
میری فائل بھی اگر داخلِ دفتر ٹھہری

تو وہ پتھرکبھی دل کی طرح کیوں نہ دھڑکا
جب محبت کبھی مرہم کبھی خنجر ٹھہری

عمر گزری فنِ سرکوبیء قلزم میں مگر
موجِ پایاب ہی آکر مرے سر پر ٹھہری

Advertisements