کامراں اب بھی ہے ہر دور میں چلتا گرگٹ
کسی لیڈر کی طرح رنگ بدلتا گرگٹ

کس کے جھنڈے کو اُٹھائے کہ جئے از سرِ نو
اپنی آبائی نشستوں سے پھسلتا گرگٹ

یونہی لیڈر بھی الیکشن میں نکل آتے ہیں
تم نے دیکھا کبھی جھاڑی سے نکلتا گرگٹ

اِتنی تیزی سے بدلنے کی لئے ہے حسرت
تیرے اطوار پہ رہ رہ کے مچلتا گرگٹ

کسی چنگل سے تو مل جاتا اُسے درسِ وفا
اپنی فطرت کے جو سانچے میں نہ ڈھلتا گرگٹ

خوش گمانی ہے کہ آتا نہیں لوگوں کو نظر
تیرے کردار میں افکار میں پلتا گرگٹ

دوڑ گرگٹ کی بٹورے سے ذیادہ نہ ہوئی
اپنے بل میں نظر آیا ہے سنبھلتا گرگٹ

کس کی باتوں پہ یوں تن فن ہوا جائے آخر
کبھی کالا ہے کبھی لال اُبلتا گرگٹ

آج گرگٹ کو ردیفوں میں کسے بیٹھا ہے
کیسے بچ پائے گا شاعر سے "غزلتا” گرگٹ

Advertisements