رواں کارواں کس طرح ہو گیا
یہاں سے وہاں کس طرح ہو گیا

چڑھاتا چلا جاؤں نسوارِ غم
میں اتنا پٹھاں کس طرح ہو گیا

جو بقراط بن بن کے پھرتا رہا
شہیدِ بُتاں کس طرح ہو گیا

ہدف میرے سر کی جوئیں کس لئے
عدُو آسماں کس طرح ہو گیا

اگر جھوٹ اس میں نہیں ہے تو پھر
سیاسی بیاں کس طرح ہو گیا

جو مدت سے جاں کو تھا آیا ہوا
وہ اب تیری جاں کس طرح ہو گیا

جہانِ دگر کے لئے تھا بلا
پئے دوستاں کس طرح ہو گیا

چڑھائے ہے سرکار تو بانس پر
بجٹ میں ذیاں کس طرح ہو گیا

سمجھتا رہا توپ خود کو سدا
وہ تیر اب کماں کس طرح ہو گیا

وہ گونگا ہے اور میں ہوں کم گو ظفر
مرا ہم زباں کس طرح ہو گیا

Advertisements