زن مریدی کا اُسے کچھ تجربہ اچھا لگا
پاؤں سب سسرالیوں کے دابنا اچھا لگا

جستجوئے یار کے کیڑے تھے اپنے پیٹ میں
کو بہ کو لٹو کی طرح گھومنا اچھا لگا

کچھ نہیں ملتا سیاست کے درِ بےفیض سے
قوم کو کیوں ہر دفعہ سر پھوڑنا اچھا لگا

دوسرے کہہ دیں تو پہنچاتا ہوں اُن کو گھر تلک
یار نے مجھ کو پکارا تو گدھا اچھا لگا

منہ اندھیرے اپنے شوہر کو ڈرا چکنے کے بعد
اُس نے جب میک اپ کیا تو آئینہ اچھا لگا

تیرے ہمسائے میں رہتا ہے رقیبِ روسیاہ
سو ترے کوچے میں کتا بھونکتا اچھا لگا

صرف ملاؤں پہ ہی طعنہ زنی زیبا نہیں
جس کو بھی حلوہ میسر آ گیا اچھا لگا

جیب کترا کوئی اپنے یار سے کہتا تھا کل
بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا

ٹارگیٹ مجھ کو کرے تو زہر لگتا ہے مجھے
دوسروں پر پھبتیاں کستا ہوا اچھا لگا

ہر برس خوش فہمیاں دیتی ہیں مجھ کو لوریاں
میرے خوابوں کو بجٹ کا پالنا اچھا لگا

حُسنِ کافر عشق کو رکھتا ہے ٹھینگے پر ظفر
عاشقوں کا دل مگر بہرِ غذا اچھا لگا

 

Advertisements