تری یادوں کے مچھر کاٹتے ہیں
ترے مجنوں کو شب بھرکاٹتے ہیں

وفا کے پیٹ میں ٹیکے لگیں گے
زمانِ نو کے دلبر کاٹتے ہیں

ہوا محبوب کیوں کر نہ مسخر
وہ چلہ تو برابر کاٹتے ہیں

یہی تکلیف ہے مجنوں میاں کو
سگِ لیلٰی بھی آ کر کاٹتے ہیں

غمِ بھونڈی نے چکرایا ہوا ہے
ترے کوچے کے چکر کاٹتے ہیں

کٹاریں جیسے ناخن بیویوں کے
مگر غُل ہے کہ شوہر کاٹتے ہیں

یونہی ٹکڑے بھی کرتے ہیں دلوں کے
حسیں جیسے چقندرکاٹتے ہیں

یوں کتے بھی یہاں یکتائے فن ہیں
وہ لیڈر ہیں سو بہترکاٹتے ہیں

حماقت سے بچے رہتے ہیں نُورے
سمے جتنا بھی سو کر کاٹتے ہیں

جراحت ہے مہینوں کی مساعی
اگرچہ ایک سُوترکاٹتے ہیں

یوں کتوں سے تو ہم بچتے رہے ہیں
مگر انساں جو اکثر کاٹتے ہیں

سزا ملتی نہیں کیوں درزیوں کو
گلے جو زندگی بھرکاٹتے ہیں

جو گھر ہوں بیویاں تو "کاٹتی” ہیں
نہیں ہوتیں تو یہ گھرکاٹتے ہیں

ظفر ماریں جو منہ طنز و مزاح میں
تو پھر شاعر بھی کھُل کرکاٹتے ہیں

Advertisements