دیکھو ساری دنیا گرکٹ
ہر کوئی رنگ بدلتا گرگٹ

گرگٹ ہے چوپایہ لیکن
انساں ہے دوپایہ گرکٹ

وقت پڑا تو کُھلی حقیقت
سب نے سب کو پایا گرکٹ

ہر ناطہ مشکوک ہوا ہے
ہر رشتہ ہے گویا گرکٹ

یار سے جب بھی یار کا پوچھا
بولا وہ ہے "سالا” گرگٹ

ہر خِطّے کے ہر عاشق نے
محبوبہ کو پایا گرکٹ

مجنوں ہے بے پیندا لوٹا
اور ہے اُس کی لیلٰی گرکٹ

پل میں تولہ پل میں ماشہ
یوں ہر بنتِ حّوا گرکٹ

بیوی "خصماں کھاندی” ڈائن
شوہر ایک سراپا گرکٹ

جب سے بھابھی گھر آئی ہے
بہنوں کو ہے بھیّا گرکٹ

رنگ بدلتا سنگ بدلتا
لیڈر ہے دیرینہ گرکٹ

جانا آٹےدال کا بھاؤ
گرکٹ سے جب ٹکرا گرکٹ

ووٹر تو ہیں کم جلسے میں
ڈال رہا ہے بھنگڑا گرکٹ

اب پہچان نہیں ہے باقی
کوئی صحافی ہے یا گرکٹ

چینل چینل بول رہا ہے
تاڑ رہا ہے مرغا گرکٹ

رنگِ سخن تو دیکھ ظفر کا
شاعر کم ہے چوکھا گرکٹ

Advertisements