اُن کو کیوں اصنام بنا کر لے آئے تھے
جو خود کو ابہام  بنا کر لے آئے تھے

ساقی کرتے خاک علاجِ تشنہ کامی
پانی کو وہ جام  بنا کر لے آئے تھے

دانت ہمارے کھٹے ہونے ہی تھے آخر
کیری کو جب آم   بنا کر لے آئے تھے

پم پر آج برستا جاتا ہے ڈرونانہ
امن جو چچا سام  بنا کر لے آئے تھے

دنیا بھر کے ابجد ہم سے پوچھ رہے ہیں
میم کو کیسے لام  بنا کر لے آئے تھے

ڈیمو کریسی نے دنیا کو چین دیا ہے
لیکن ہم آلام  بنا کر لے آئے تھے

ڈگری کے چکر میں گئے تھے یونیورسٹی
عشق میں اپنا نام  بنا کر لے آئے تھے

گرمئی اخلاص کا بدلہ خُوب دیا ہے
سکھر کو کالام  بنا کر لے آئے تھے

ہم تو سنورے بیٹھے ہوئے تھے اِک مدت سے
آپ کسے گُلفام  بنا کر لے آئے تھے

Advertisements