جس سے جھاڑی ہے میں نے الفت تک
اُس نے کی ہے مری حجامت تک

اپنا اُلو جو سیدھا کرتا تھا
کر گیا ہے وہ میری عزت تک

اب تو مس نے مسسز نہیں بننا
میم پہنچی نہیں محبت تک

اُس سے دنیا میں کچھ نہیں ہونا
جس سے ہوتی نہیں حماقت تک

خُوگرِ قیدِ ازدواجی ہوں
اور آتی نہیں بغاوت تک

پھوڑ دے گا میاں پڑوسی تجھے
بی پڑوسن کو اس قدر مت تک

چل دیا لُوٹ کر اُسے آخر
جس نے کی چور کی وکالت تک

جس کو اُکّا نظر نہیں آتا
اُس کے ہاتھوں میں ہے قیادت تک

وہ لُٹیرا تو ہے مگر کچا
حیطہء فن نہیں سیاست تک

ٹھونس رکھی تھی رُوئی کانوں میں
جس نے دی تھی سخن کی دعوت تک

اِس زمانے میں بددعا ہے ظفر
زندگی کی دعا قیامت تک

Advertisements