وہ کُڑی مجھ کو ہمہ رنگ بھی لگ سکتی ہے
ہیروئن لگتی ہے تو بھنگ بھی لگ سکتی ہے

کس لئے دیتے پھریں اُس کو گراں قدر گھڑی
اُس کی "بینی” میں اگر "ونگ” بھی لگ سکتی ہے

حُسنِ بیباک کو منہ پھاڑ کے دیکھا نہ کرو
دیکھنے والوں کو یُوں کھنگ بھی لگ سکتی ہے

پارلر کے لئے نکلی ہے جو بوڑھی مائی
واپسی پر وہ تجھے "ینگ” بھی لگ سکتی ہے

جاب سرکار کی مل جائے تو "ستّاں خیراں”
یہ تجھے خلعتِ اورنگ بھی لگ سکتی ہے

مُسکرا کر کسی لڑکی نے مجھے کیوں دیکھا
میرے گھر اِس پہ کوئی جنگ بھی لگ سکتی ہے

آج ہے ساس بہُو پر بڑے صدقے واری
کل کلاں کو یہی بے ڈھنگ بھی لگ سکتی ہے

یُوں تو کہنے کو ہے وہ دخترِ اللہ دتّہ
شکل ایسی ہے کہ "مس فنگ” بھی لگ سکتی ہے

نسلِ نو کو کوئی ٹیکا نہ لگا دے جدّت
قوم کو دیمکِ افرنگ بھی لگ سکتی ہے

پنڈی والوں کو ہی بجّوُ نہیں لگتے پیارے !
ایسی پھبتی تو سرِ جھنگ بھی لگ سکتی ہے

حظ بھی لے سکتی ہے وہ عرضِ محبت کا ظفر
دیکھنے میں جو تجھے تنگ بھی لگ سکتی ہے

Advertisements