ہماری یاد کی گولک پٹک کے سوچیں گے
وہ اپنے سر سے جوؤں کو جھٹک کے سوچیں گے

یُوں گرنا ٹھیک نہیں جستجُو کی پھسلن سے
گرے ہیں کس کی نظر سے اٹک کے سوچیں گے

حضورِ سام عجب لیڈروں کی حالت ہے
فلاحِ قوم کی بابت مٹک کے سوچیں گے

مقالہ کیسے لکھیں ڈارون کی تھیوری پر
کسی درخت سے اُلٹے لٹک کے سوچیں گے

بنے ہیں سرو و سمن چوہدری چمن کے کیوں؟
ہمیشہ کی طرح غنچے چٹک کے سوچیں گے

رقیب پھر سے کہیں پیٹنے نہ لگ جائیں
جوارِ کوچہء جاناں پھٹک کے سوچیں گے

دبئی گئے تھے کیماڑی میں کیسے لینڈ ہوئے
سفر کا کس نے کہا تھا بھٹک کے سوچیں گے

پڑا ہے بیلنا سر پر یا طبلِ جنگ بجا
ذرا سی دیر کو ہم بھی کھٹک کے سوچیں گے

کہاں کہاں نہ پئے باس دُم ہلائی ہے
اٹک گئے تو وہیں پر اٹک کے سوچیں گے

کیانیوں کا بھی میٹر ہے گھومنے والا
کبھی یہ بات بھی لونڈے خٹک کے سوچیں گے

Advertisements