حُسن والے بے دھڑک ہر نوجواں کو ہانک لیں
جس کو چاہیں عشق کی وہ ٹکٹکی پر ٹانک لیں

ہائے کیسے غیر خالص دور میں پیدا ہوئے
مر نہ پائیں گے اگرچہ زہر بھی ہم بھانک لیں

عشقِ لیلٰی کی حماقت کے نہ ہوں گے مرتکب
حضرتِ مجنوں جو مستقبل میں اپنے جھانک لیں

تلخیاں ہی تلخیاں منہ میں بھرے رہتے ہیں کیوں؟
ذیست سے کہہ سن کے کوئی تو خوشی کی پھانک لیں

لڑکیاں ہیں آج بھی شرموں حجابوں سے بھری
آج بھی یہ فکر ہے میک اپ سے چہرہ ڈھانک لیں

سام جی مسلم کشی میں اس قدر بھی نہ بڑھیں
آپ انجانے میں لوہے کے چنے ہی بھانک لیں

بھیڑ چالوں سے اُسی جانب کو دوڑیں گے ظفر
جس طرف کو بھی سیاستداں ہمارے ہانک لیں

Advertisements