آپ ہم یوں بین الاقوامے گئے
پُھولنا تھا جس میں وہ جامے گئے

جاہلوں کے حق میں کیوں نعرے لگے
علم کا چھنڈا تو ہم تھامے گئے

ارتقا نے چُست خاصا کر دیا
تنگ ہے پتلون پاجامے گئے

کس قدر میک اپ کیا ہے ہائے ہائے
جن کو تھا یرقان گُلفامے گئے

ہیر کو موٹی اسامی چاہئے
بن کے رانجھا جی یونہی کامے گئے

کس لئے درپے تھے اُن کی کھال کے
دیکھ لو ہاتھوں سے بے دامے گئے

تُو اسمبلی میں گیا ہر مرتبہ
یا ترے چاچے ترے مامے گئے

کل بھی ہم امریکی بُش میں تھے کہیں
آج بھی حالات اوبامے گئے

دیکھ کر قاصد کی نوسر بازیاں
اُن کے گھر ہم لے کے خود نامے گئے

گفتگُو ہو گی ٹھکانے کی ظفر
شکر ہے محفل سے علامے گئے

Advertisements