زندگی ہے کہکشاں در کہکشاں
داستاں ہے اور وہ معجز بیاں

ایک تابانی سے رخشندہ ہوئے
دامنِ افلاک پر کتنے نشاں

نظم ایسا رخنہء جنبش نہیں
اک طلسم اندر مکان و لامکاں

دل کی دھڑکن کی طرح حرکت میں ہیں
دور تک پھیلے ہوئے سیّارگاں

ایستادہ ہیں صفیں چاروں طرف
اور سجدہ ریز ہیں کردوبیاں

اُس کے ذکرِ پاک سے ہے رقص میں
ابتسامِ وقت کی موجِ رواں

چشمہء ادراک پر بہتے دئے
اُس کی عظمت کے نقوشِ جاوداں

اُس کی صنّاعی کی دستاویز ہے
ہر نشانی از کراں تا بہ کراں

اُس کی تخلیقات کی پہنائی میں
کچھ نہیں ہے یہ زمیں’ یہ آسماں

ذرّے ذرّے سے مخاطب ہے مجھے
کس قدر مستُور ہے کتنا عیاں

Advertisements