کسی کو پٹایا تو پِٹ جائے گا
"نواں چن” چڑھایا تو پِٹ جائے گا

وہ دِل کے مکاں میں ہیں پھیلے ہوئے
جو مانگا کرایہ تو پِٹ جائے گا

شرافت کا ہرگز زمانہ نہیں
یہ بندر نچایا تو پِٹ جائے گا

پریکٹس کراٹے کی کرتے ہیں وہ
نشانے پہ آیا تو پِٹ جائے گا

بکے جا یونہی جھوٹ سچ کی طرح
اگر سٹپٹایا تو پِٹ جائے گا

سہیلی جو بیگم کی آئی ہو گھر
میاں چہچہایا تو پِٹ جائے گا

جو کوثرکی تائی کی مانی نہیں
تو کوثر کا تایا تو پِٹ جائے گا

جہانِ سیاست ہے لوٹا نگر
ہوا نہ صفایا تو پِٹ جائے گا

سنانے لگا ہے کوئی حالِ دل
ظفر مسکرایا تو پِٹ جائے گا

Advertisements