چرس نہیں ہے بھنگ نہیں ہے
رنگ میں ٹھیک ملنگ نہیں ہے

کون سی ایسی بات ہے جس پر
ہمسایوں کو کھنگ نہیں ہے

خوابوں کی پرواز ہے کیسی
کھاٹ اُڑن پتنگ نہیں ہے

ہو گئے درجن بچے لیکن
جیون ہم آہنگ نہیں ہے

جتنا زہریلا ہے انساں
ویسا تو سارنگ نہیں ہے

لے آئی تقدیر کہاں پر
سگ تو ہیں پر سنگ نہیں ہے

قیس کیوں بگڑے پروانوں پر
لیلٰی اُس کی منگ نہیں ہے

ساسیں دل دہلائیں ٗ  گرچہ
لہجہ خاص دبنگ نہیں ہے

دل پر ہیں اک نام کی ٹکٹیں
سو یہ خط بے رنگ نہیں ہے

ہیرو بن کر کیوں پھرتا ہے
بابا اتنا ینگ نہیں ہے

بیگم کا کفگیر اٹھانا
کیا اعلانِ جنگ نہیں ہے

Advertisements