یُوں تو کنگلے بھی لگن رکھتے ہیں
دنیا اُن کی ہے جو دھن رکھتے ہیں

چاند چہروں کا مماثل جانیں
سرِ عشّاق بھی چن رکھتے ہیں

کوئے جاناں سے دہی لینی ہے
یا کوئی اور مشن رکھتے ہیں

قول چاہتے ہیں محبت والا
اور پیشانی پہ گن رکھتے ہیں

بار برداری کا ٹٹّو ٹھہرے
بیویاں تین اپن رکھتے ہیں

واقعی ہم سے ہیں پیارے اُن کو
یا جلانے کو کزن رکھتے ہیں

ہم بھی چمچے تھے کسی لیڈ رکے
اک نشہ تھا سو ہرن رکھتے ہیں

داغ دیتے ہیں فٹافٹ جُگتیں
لوگ بیساختہ پن رکھتے ہیں

پھر فضاؤں میں معلق کیوں ہیں
ارض رکھتے ہیں گگن رکھتے ہیں

Advertisements