چلو اچھا ہوا تم نے
سرِ دشتِ تمنا آگہی کا راستہ تو کھینچ ڈالا ہے
عذابِ بے یقینی سے نکالا ہے
چلو پھر از سرِ نو میں سفر آغاز کرتا ہوں
مگر اے خضرِ راہ میرے
بہت احسان ہوتا جو مجھے یہ بھی بتا دیتے
کہ یہ جو عمر بھر چلتا رہا ہوں میں
اِسے بھی میں سفر کے باب میں لکھوں کہ نہ لکھوں؟

Advertisements