مسافتوں کو نیا مدعا بھی دے جاتا
مگر حیات کو وہ اک خلا بھی دے جاتا

اُسی کی شکل ہے نظروں کے سامنے ہر دم
وہ جاتے جاتے کوئی فاصلہ بھی دے جاتا

اڑا ہوا ہے اسی بات پر دلِ سادہ
وہ جس نے زخم دئے تھے دوا بھی دے جاتا

بھلے وہ شعلہء جاں کو بجھُا کے رکھ دیتا
گھٹن کے واسطے لیکن ہوا بھی دے جاتا

طلب تھی اُس سے اگرچہ قبائے تن کی بہت
وہ اپنی خوشبُو بہ دستِ صبا بھی دے جاتا

سزا سناتا اگر جرمِ آگہی کی مجھے
تو اس طرح کہ نیا حوصلہ بھی دے جاتا

وہ چُپ بھی ہوتا تو اس بانکپن کے ساتھ ظفر
لبِ خموش کو ذوقِ نوا بھی دے جاتا

Advertisements