بارِ اوّل جو کیا فون تو بولی ‘  ہیلو !
کون ؟ جی ! آپ ؟ یہ بکواس ہے کیا شرم کرو !!
دوسری بار کیا فون تو بولی؛ ہیں ! ہیں !!
کیا ترے گھر نہیں مائیں بہنیں ؟؟
تیسری بار کیا فون تو بولی؛ اوکے !
تم نے جو بات بھی کہنی ہے کہو جلدی سے !!!
اور پھر فون کیا میں نے تو بولی’ چلیں ٹائم کیا ہے ؟
آپ نے مجھ سے کہاں ملنا ہے ؟؟
پانچویں بار مرے گھر میں مرے ابو کو یہ فون پہ پیغام ملا
آپ کے بیٹے کو پھینٹا ہے کسی نے خاصا
چل نہیں سکتا ہے لیٹا ہے کلینک میں مرے
اس کو لے جائیں یہاں سے آ کے !

Advertisements