خُوباں کو ہے دولت سے محبت اب  بھی
ایجاد کی امّاں ہے ضرورت اب بھی

عشاق تہی داماں ہیں پہلے جیسے
زر اور زمیں جیسی ہے عورت اب بھی

Advertisements