سیاستدانوں جیسا کیوں کریں ہم
ہمیشہ اُلٹا سیدھا کیوں کریں ہم

جو مالی منفعت ہو تو بجا ہے
یونہی پیتل کو سونا کیوں کریں ہم

میاں مجنوں بھی چنگ چی پر گئے ہیں
تجھے ملنے کو ناقہ کیوں کریں ہم

جھپٹ پڑنا ہے ہڈی پر سبھی نے
مگر پہلے تماشہ کیوں کریں ہم

اگر جانا ہی ٹھہرا اُس گلی میں
تو فکرِ گوڈا گٹا کیوں کریں ہم

تجھے ہم بانٹ دیں خوباں میں جا کر
پر ایسا مورے منوا کیوں کریں ہم

ترا کتا بھی ہم پر بھونکتا ہے
ترے کوچے میں جایا کیوں کریں ہم

ہمیں آتا ہے رمبا سمبا بیگم !
اشاروں پر ہی ناچا کیوں کریں ہم

ہم اسٹوڈینٹ ہیں اُلو نہیں ہیں
بھلا راتوں کو جاگا کیوں کریں ہم

کن انکھیاں تو ہنر ہیں تاڑؤں کا
سرِ بازار گھورا کیوں کریں ہم

یونہی حق بات کا میک اپ کریں کیا
ظفر ایسے کو ویسا کیوں کریں ہم

Advertisements