سودا مِلا نہیں کچھ دُعا کی دُکان سے
ہم قتل ہو کے نِکلے شفا کی دُکان سے

کب تک بکیں گے اہلِ خبر کے دیار میں
جو زہر مل رہے ہیں دوا کی دُکان سے

اب کے نہ رہگزار سمجھ کر خریدنا
ہر گمرہی کو راہنما کی دُکان سے

لاحاصلی بھی زینتِ شوکیس دیکھنا
جب کہکشاں خریدو خلا کی دُکان سے

تم چُپ کی ریزگاری بھی رکھنا سنبھال کر
جز شور کیا ملے گا صدا کی دُکان سے

نکلی تھی گھر سے بہرِ خریداری مفلسی
لے آئی بھوک اہلِ سخا کی دُکان سے

اِٹھلاتا پھر رہا ہے یونہی دہر میں ظفر
بندے کا بھاؤ پوچھو فنا کی دُکان سے

Advertisements