پیٹ اُن صاحب کا مٹکا ہو گیا
غالبا” افسر بڑا سا ہو گیا

پھر وہ پٹری سے اُتر کر رہ گئے
جن کے پیچھے اپنا پٹرا ہو گیا

آسماں نیچے زمیں اوپر ہے کیوں؟
کچھ تو میرے ساتھ اُلٹا ہو گیا

کارڈ شادی کا ملا ہے پھر مجھے
پھر کہیں خودکش دہماکہ ہو گیا

یک بیک بارش ہوئی‘ میک اپ اُڑا
اور وہ منٹوں میں بوڑھا ہو گیا

دال لینے آئے وہ بازار میں
عاشقوں کا دال دلیا ہو گیا

ہڑبڑایا تیس برسوں بعد میں
جا کے پھر لاہور پیدا ہو گیا

عارضہ لاحق نہ ہو نسیان کا
یاد فرمائے زمانہ ہو گیا

مارتا تھا تجھ پہ مرنے پر مجھے
اب جو ظالم میرا سالا ہو گیا

کس قدر ڈیسینٹ لگتا تھا ہمیں
یوں ہوا پھر کوئی گویا ہو گیا

سینگ تانے جب رقیبوں نے ظفر
میرے ہاتھوں میں بھی ڈنڈا ہو گیا

Advertisements