جسم و جاں سے تو رشکِ گاں ہے کوئی
یوں تو کہنے کو ریشماں ہے کوئی

تیرے تاڑو کی ہسٹری دیکھی
تیس برسوں سے نوجواں ہے کوئی

دعویٰ کرتا ہے پاپ سنگنگ کا
بسکہ کووں کا ہم زباں ہے کوئی

میاں بیوی میں جو تنازعہ ہے
بلّی چوہے کی داستاں ہے کوئی

خوش نصیبوں کے واسطے ہیں مکاں
میری قسمت میں پانداں ہے کوئی

نوجواں بیوی’ سن رسیدہ میاں
تیر ہے کوئی اور کماں ہے کوئی

تیرے ناز و ادا سے لگتا ہے
مہرباں جنسِ دیگراں ہے کوئی

لوگ جس کو برات کہتے ہیں
کسی منزل کا کارواں ہے کوئی؟

سب کو دھرتا رہا ہے ٹھینگے پر
اب گواچی ہوئی سی گاں ہے کوئی

عشق بھی تیرا جوتیوں میں دال
عقد بھی تجھ سے امتحاں ہے کوئی

میرے خُم ٹھونکنے سے پہلے ظفر
آگ تھا اور اب دہواں ہے کوئی

Advertisements