گُلکاریاں انٹرنیشنل اُردو اَدبی فورم کے تحت61 ویں انٹرنیشنل ہفتہ وارفی البدیہہ طرحئی مُشاعرے بروز ھفتہ، 8 فروری 2014 میں پیش کی گئی میری غزل کے چند اشعار

کسی نے ماری تھیں منہ پر صداقتیں کیسی
اور اب وہ جھاڑ رہا ہے وضاحتیں کیسی

رہی ہے دعوتِ دیدار جن کی زیبائش
وہ کر رہے ہیں مرے گھر شکایتیں کیسی

تمہارے کتے کی بے مہریوں سے ظاہر ہے
تمہارے کوچے میں ہوں گی مدارتیں کیسی

یوں کی گئی ہے دھنائی کہ ایک مدت سے
"خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی”

جو برہنہ نہ کرے آرٹ ہو نہیں سکتا
سمائیں جامے میں تو پھر ثقافتیں کیسی

گڑھے میں لے کے چلیں احمقانِ عالم کو
ملی ہیں اہلِ وطن کو قیادتیں کیسی

وہ نام لیتے ہیں اک رات کے پرندے کا
دکھائی دیتی ہیں ہم میں شباہتیں کیسی

سبق نہ سیکھا کبھی ازدواجی شہداء سے
ہیں رحمتوں کے تعاقب میں تعمتیں کیسی

یُوں بے مہار چلا اُسترا محبت کا
ہوئی ہیں وقت کے ہاتھوں حجامتیں کیسی

Advertisements