دیکھنے پایا نہ جی بھر کے دوانا اُس کا
دیکھتے دیکھتے گھوڑا تھا روانہ اُس کا
نہ کوئی اپنی کہی ہے اُس نے
نہ مری بات سُنی ہے اُس نے
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا اُس کا

Advertisements