تشنگی کم نہیں تاہم مرا دل کہتا ہے
ابر برسے گا چھا چھم مرا دل کہتا ہے

گاڑ سکتا ہوں ترے دل کے قلعے پر اک دن
اپنی آواز کا پرچم مرا دل کہتا ہے

سب مسائل کی گرہیں کھول کے رکھ دینی ہیں
جب بھی مل بیٹھیں گے باہم مرا دل کہتا ہے

آنے والے کسی طوفاں کی خبر دیتی ہیں
دھڑکنیں وقت کی مدھم مرا دل کہتا ہے

تھوڑی حالات کی مشاطگی کرنی ہو گی
زلف رہنی نہیں برہم مرا دل کہتا ہے

یہ فضاؤں میں جمی برف پگھل جوئے گی
اب بدل جائے گا موسم مرا دل کہتا ہے

رنگ لائے گی مرے خوابِ سحر کی کاوش
نہ رہے گی یہ شبِ غم مرا دل کہتا ہے

رُوئے گلزار کو ہیرے کی چمک بخشے گی
میری آنکھوں کی یہ شبنم مرا دل کہتا ہے

دعوہء ترکِ مراسم پہ وہ قائم ہی سہی
مجھ کو بھولا نہیں تادم مرا دل کہتا ہے

Advertisements