ہم یوں اپنے بدن میں لپٹے تھے
جیسے صحرا چمن میں لپٹے تھے

کتنے لمحے گئے زمانوں کے
زندگی کے کفن  میں لپٹے تھے

میرے اندر بغاوتیں یوں اٹھیں
کچھ اندھیرے کرن میں لپٹے تھے

آگ پہنی ہوئی تھی ظالم نے
جس سے دیوانہ پن میں لپٹے تھے

پھول جھڑتے تھے اُن کے ہونٹوں سے
اور کانٹے سخن میں لپٹے تھے

Advertisements