مرے یارِ کنگال ایسا بھی کیا
نہ میسج نہ مس کال ایسا بھی کیا

جہاں مشک حلوے کی آئی اُسے
ٹپکنے لگی رال ایسا بھی کیا

وہ پنڈی میں ملنے کو آئیں مجھے
میں بیٹھا ہوں چکوال ایسا بھی کیا

جہاں عشق لے لے کے پھرتا رہا
وہی در ہو سسرال ایسا بھی کیا

نوائے ضمیر اب سنیں کس لئے
بنے کھیر کیوں دال ایسا بھی کیا

میں کاہے کو آنے لگا دام میں
وہی جل وہی جال ایسا بھی کیا

اِنہیں سے ہے جمہوریت کی پھبن
نہ دھرنا نہ ہڑتال ایسا بھی کیا

یونہی اژدھے شک کے پالا نہ کر
چلا چل مرے نال ایسا بھی کیا

جوانوں کی مت مار دیتے ہیں کیوں
طلسماتِ بنگال ایسا بھی کیا

پڑی کیسے خطرے میں اُن کی بقا
جو سر کے ہیں دو بال ایسا بھی کیا

ظفر بہرِ اصلاح سنانے پڑیں
تجھے تیرے اقوال ایسا بھی کیا

Advertisements