زبانِ زوجہ کو لپکا ہے چاقُو ہونے کا
میاں کے قلبِ حزیں میں ترازُو ہونے کا

جو بزمِ ناز میں نظریں جھکائے بیٹھے ہیں
لگا ہے اُن پہ بھی الزام تاڑُو ہونے کا

کسی کی یاد میں راتوں کو جاگتا ہے بہت
عجیب شوق ہے راتوں کو الُو ہونے کا

بنائے پھرتی ہے خالہ وہ ہر پڑوسن کو
سو فائدہ ہمیں رہتا ہے خالُو ہونے کا

ہمیں کو مرغا بنایا ہے دنیا والوں نے
ہمیں کو خبط رہا ہے دیالُو ہونے کا

زنانہ وار صفائی جو گھر کی کر دیتا
تو طعنہ کیوں تجھے ملتا نکھٹُو ہونے کا

وہ کیسے بن گیا انسان کیا بتائیں تمہیں
تھا توش و تن سے تو حقدار بھالُو ہونے کا

مری لاحول سے شیطان ہو نہ ہو غائب
مجھے ہے خطرہ خود اپنے اڑنجھُو ہونے کا

تمہارے ابّے کی لنگڑاہتوں سے پھر جاگا
سوال ہیر کے چچا کے کیدُو ہونے کا

یہ تیرے طرزِ تکلم کی دین ہے پیارے
یونہی لقب نہیں ملتا ہے بھونپُو ہونے کا

لگا گیا میرے ہونٹوں پہ مہرِ سنسر کی
ارادہ کر ہی رہا تھا میں چالُو ہونے کا

Advertisements