فیس بُک پر انتیسویں دیا عالمی آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرہ بتاریخ ” 24 جنوری 2014 ” میں کہی گئی میری غزل کے چند اشعار

ہر شخص دیکھتا ہے مجھےگھور کر کہیں
ڈر ڈر کے کر رہا ہوں میں عرضِ ہنر کہیں

قائل ہے ڈارون کی تھیوری کا اِس قدر
بیٹھا ہوا ہے کوئی کسی شاخ پر کہیں

سی این جی کی خاطر کھڑا تھا قطار میں
"پاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیں”

تہذیبِ نو کے حملہء خودکش میں اُڑ گیا
سو اب بشر کا "ب” ہے کہیں اور "شر” کہیں

اِک اینٹ کی بھی پسلی نہیں ہے خدا مری
اب لاٹری میں میرا نکل آئےگھر کہیں

جس کو اڑنگیوں کا بہت اِشتیاق ہے
وہ شخص بن نہ جائے مرا ہمسفر کہیں

مدت سے اُن کا چھکڑا دکھائی نہیں دیا
لے نہ لیا ہو کوچہء جاناں میں گھر کہیں

ہم آپ جن کے واسطے لڑ لڑ کے مر گئے
دعوت اُڑا رہے ہیں وہ شیر و شکر کہیں

کل بیلنا خریدتا پایا گیا ہے وہ
شوہر کی ٹانٹ پر نہ ہو اُس کی نظر کہیں

Advertisements