منہ کے بل جب ہم گریں تو کس لئے ہمدم ہلے
ہم ملالہ تو نہیں پورب ہلے پچھم ہلے

یوں رقیبِ روسیاہ محفل میں بل کھایا کرے
جیسے تیرے رُخ پہ آ کر کاکلِ برہم ہلے

ناچ تگنی کا نچایا ہے زمانے نے ہمیں
آپ یوں فربہ ہوئے کہ زندگی بھر کم ہلے

میری ہلنت تم کو پہنچے یہ تو ممکن ہی نہیں
ہم ہلے دھم دھم ہلے تم ہلے چھم چھم ہلے

کیوں نہ اے سی آر پر نمبر مرے ہائی رہیں
باس کو جب دیکھتے ہی دُم مری دم دم ہلے

لکھنے والے کو ہلا پائے نہیں حاکم مگر
ازدواجی زلزلے سے دیر تک کالم ہلے

یار لوگوں نے بنالیں اِن سے اپنی دہوتیاں
انقلابِ احمریں کا کس طرح پرچم ہلے

اب کریں منصوبہ بندی والے اِن کا احتساب
آٹھ بچوں بعد بھی اصرار ہے البم ہلے

رعب اک عالم پہ رکھتے ہیں مگر یہ بھی ہے سچ
خان صاحب بیٹھ جاتے ہیں جہاں خانم ہلے

تبصرے سننے کی خاطر زخم دکھلائے نہ تھے
وہ اگر ہے چارہ گر تو پھر پئے مرہم ہلے

Advertisements