گُلکاریاں انٹر نیشنل اُردو اَدبی فورم کے تحت58 ویں انٹرنیشنل ہفتہ وارفی البدیہہ طرحئی مُشاعرے بتاریخ 04 جنوری 2014 میں کہی گئی غزل

زندگانی میں اگر ساتھ تمہارا ہوتا
یہ جو غیروں کا ہے کاکا یہ ہمارا ہوتا

منہ کے بل گرتی نہ تقدیر الجھ کر میری
اُس نے زلفوں کو سلیقے سے سنوارا ہوتا

ایک شوہر ہوں اسی واسطے بیچارہ ہوں
بیل ہوتا تو مرے سامنے چارا ہوتا

تیرا کتا ہی مرے پیچھے لگا ہے ناحق
تیری جانب سے بھی تو کوئی اشارا ہوتا

وہ تو قسمت نے ہی اوقات میں رکھا ورنہ
کسی لیڈر کی طرح ملک ڈکارا ہوتا

جان کڈھ لی ہے بچارے کی غمِ لیلٰی نے
قیس چھوہارا نہیں آلو بخارا ہوتا

ویگنوں میں ترا عاشق تو نہ رُلتا پھرتا
جتنا نزدیک ہے کلیام‘ ہزارا ہوتا

یوں تو عیاشی میسر ہے زمانے بھر کی
پھر بھی اپنی وہی حسرت کہ گزارا ہوتا

ڈی وی ڈی کوئی مزیدار سی دے کر جاتے
"کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا”

بھوت لاتوں کے نہ مانیں گے کبھی باتوں سے
لے کے ڈنڈا کوئی ہاتھوں میں سدھارا ہوتا

باز آتی نہیں فیشن سے خواتین ظفر
جینز کی پینٹ نہ ہوتی تو غرارا ہوتا

Advertisements