فیس بُک پر پٹوار خانہ کی ہفتہ وار نشست بروز منگل 10 دسمبر 2013

رفو کرے گا یوں دامن کو یار بدرنگا
سئے گا لے کے گریباں کے تار بدرنگا

پہن کے آیا ہے ظالم پرنٹ والی بشرٹ
بنا ہوا ہے کوئی اشتہار بد رنگا

تمہارا حُسن سراسر رہینِ میک اپ تھا
سو چُن لیا کوئی بے اختیار بد رنگا

تمام سنڈے گزارا رقیب کے ہمراء
ہمارے حصے میں ہے سوموار بد رنگا

تمام رنگ تو اُس نے پُڑچھ لئے بڑھ کر
"ھوا ھے قوسِ قزح کا دیار بد رنگا”

میں سمجھا تھا کوئی محفل بہار بیگم کی
تھا انتظام بنامِ بہار بدرنگا

سجا کے آیا ہے اُپلے جو رُخ پہ میک اپ کے
وہ کہہ رہا ہے مجھے بار بار بدرنگا

میں جس طرح اُسے کہتا ہوں پیکرِ رنگیں
اُسی طرح مجھے کہتا ہے یار بدرنگا

مرے رقیب پہ بھونکا نہیں ترا کتا
مجھے نہ بخشا کبھی زینہار بدرنگا

نہیں کہ عشق و محبت ہی جان لیوا ہے
چڑھا یا ڈینگی نے بھی کچھ بخار بدرنگا

ہنر سکھا گیا یاروں کو مرغا ببنے کا
ٹکر گیا تھا کوئی تھانیدار بدرنگا

خود آگہی کا نشہ نہ چڑھا ذرا اُس پر
تھا میکدے میں کوئی میگسار بدرنگا

زمانہ دیکھ چکا ہے تمام رنگ اُس کے
کرے ہزار وہ سولہ سنگھار بد رنگا

Advertisements